اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی تنظیم "بحرین میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے امریکی" نے اعلان کیا ہے کہ بحرینی کارکن علی محسن مہنا کی دوبارہ گرفتاری ملک میں سیاسی مخالفین پر دباؤ کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ تنظیم نے جیل میں ان کی جسمانی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق، علی محسن مہنا کو مئی 2026 میں النعیم پولیس مرکز طلب کیے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا اور تفتیش کے بعد انہیں عارضی حراست میں منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنا کے خلاف نیا مقدمہ ان کے پرامن سیاسی و سماجی اقدامات اور سیاسی قیدیوں، بالخصوص اپنے بیٹے حسین مہنا کے دفاع کے باعث طویل عرصے سے جاری سکیورٹی کارروائیوں کا حصہ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا کہ علی محسن مہنا کی حالیہ گرفتاری منامہ میں محرم کی مجالسِ عزا میں شرکت کی وجہ سے عمل میں آئی، جسے مذہبی آزادی اور عقیدے کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دورانِ تفتیش مہنا نے مؤقف اختیار کیا کہ عزاداری کی مجلس میں ان کی شرکت مذہبی آزادی کے حق کے دائرے میں تھی، انہوں نے کسی نعرے میں حصہ نہیں لیا بلکہ صرف مجلس میں شریک ہوئے تھے۔
تنظیم نے بحرینی حکام پر دورانِ حراست مہنا کے ساتھ بدسلوکی کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں سر کے پرانے زخم کی جگہ پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علی محسن مہنا شدید سر درد، چکر آنے، کھڑے ہونے میں دشواری اور نماز ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم انہیں صرف درد کم کرنے والی ادویات دی گئی ہیں اور انہیں خصوصی طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔
تنظیم کے مطابق، مہنا کے اہل خانہ نے بھی ان کی صحت کے بارے میں شکایت درج کرائی ہے۔ ابتدائی طبی معائنے میں مسلسل بلند فشارِ خون کی نشاندہی ہوئی، تاہم انہیں ضروری ٹیسٹ اور ماہر ڈاکٹر کے معائنے کے بغیر سلمانیہ میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے آخر میں علی محسن مہنا کی فوری اور غیر مشروط رہائی، ان پر عائد الزامات ختم کرنے، مبینہ بدسلوکی کی آزادانہ تحقیقات، مناسب طبی سہولیات کی فراہمی اور بحرین میں کارکنوں اور سیاسی قیدیوں کے اہل خانہ کو طلب اور گرفتار کرنے کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
آپ کا تبصرہ